اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبد اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کو پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ رہنے دیا جائے اور جنگ و جدل کے بجائے دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کو پرامن مذاکرت کے ذریعے ہی حل کیا جائے۔ انہوں نے فلم اداکار عامر خان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عامر خان نے یہ کبھی نہیں کیا کہ وہ ملک چھوڑ کر جائیں گے۔ فاروق عبداللہ نے سرکردہ کانگریس لیڈر اور سابق ریاستی وزیر خزانہ گرداری لعل ڈوگرہ کی برسی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران کئی اہم معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر بھارت جبکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر پاکستان کا حصہ بنا رہے گا۔ اس ضمن میں ان کا کہنا تھا ’’آزاد کشمیر پاکستان میں ہے اور اسی کا حصہ رہے گا، جموں کشمیر بھارت میں ہے اور اسی کا حصہ بنا رہے گا، ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی، عملی طور پر ہم اُس کشمیر کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے“۔ جب ان سے اسکی وضاحت کرنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے کہا ”میں کئی برسوں سے یہ کہتا آیا ہوں کہ پاکستانی کشمیر بھارت کا حصہ ہے لیکن آپ نے کیا کیا؟ کیا آپ نے اس کو بھارت کا حصہ سمجھا؟“۔
انہوں نے بات چیت کو تمام مسائل کا واحد حل قرر دیتے ہوئے مزید کہ ”جنگ کوئی حل نہیں ہے، اس میں صرف جانیں ضائع ہوتی ہیں، بات چیت ہی واحد متبادل ہے، ہم نے پاکستان کے ساتھ تین جنگیں لڑی ہیں لیکن اُس سے اُس پار کا کشمیر حاصل نہیں کرسکے“۔ ڈاکٹر عبداللہ نے اپنے مخصوص انداز میں کہا ”ہمیں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے، سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے مجھے بتایا کہ جب انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا تو یہ تجویز پیش کی کہ آپ وہ حصہ لے لو جو آپ کے پاس ہے اور ہم یہ حصہ لیتے ہیں جو ہمارے پاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی نے مزید کہا کہ انہوں نے پاکستان کو یہ مشورہ بھی دیا کہ لکیروں کو ٹھیک کیا جائے تاکہ آر پار لوگ آسانی کے ساتھ آوا جاہی کرسکے تاہم پاکستان نے اس مشورے سے اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اس وقت اٹل بہاری واجپائی کے اس مشورے کو قبول کرنے کے لئے تیار ہے تاہم ہمیں پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ بھارت پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو واپس کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا ہے اور دونوں ملک اپنے اپنے زیر انتظام حصوں پر بدستور قائم رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲